مسجد اقصیٰ کی دینی و تاریخی اہمیت
مسجد اقصیٰ اسلام کی تین مقدس ترین مساجد میں سے ایک ہے، جو یروشلم (بیت المقدس) میں واقع ہے۔ یہ مقام مسلمانوں کے لیے گہری روحانی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف پہلا قبلہ رہا بلکہ اسراء و معراج کے سفر سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم مسجد اقصیٰ کی دینی اہمیت، اس کی تاریخ اور اسلامی روایت میں اس کے مقام پر روشنی ڈالیں گے۔ یہ مضمون خالصتاً دینی و تاریخی معلومات پر مبنی ہے۔
مسجد اقصیٰ: پہلا قبلہ
اسلام کے ابتدائی دور میں، ہجرت سے پہلے اور اس کے کچھ عرصہ بعد تک، مسلمان نماز کے دوران مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کیا کرتے تھے۔ اسی لیے اسے "اولیٰ القبلتین" یعنی پہلا قبلہ کہا جاتا ہے۔ بعد میں وحی کے ذریعے قبلہ تبدیل ہو کر خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا، مگر مسجد اقصیٰ کی دینی اہمیت برقرار رہی۔
قبلہ کی تبدیلی کا پس منظر
قبلہ کی تبدیلی مدینہ میں ہجرت کے تقریباً سولہ یا سترہ ماہ بعد ہوئی۔ اس تبدیلی کے باوجود مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کی تاریخ میں ایک خاص اور محترم مقام حاصل رہا، اور آج بھی اسے دینی اعتبار سے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
اسراء و معراج کا مقام
روایات کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کا معجزاتی سفر (اسراء) مکہ کی مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک ہوا۔ اسی مقام سے آسمانوں کی طرف معراج کا سفر شروع ہوا، جس میں نماز کی فرضیت جیسے اہم احکام عطا کیے گئے۔ اسی وجہ سے مسجد اقصیٰ کو اسلامی روایت میں ایک منفرد روحانی حیثیت حاصل ہے۔
قبۃ الصخرہ اور مسجد اقصیٰ کا احاطہ
مسجد اقصیٰ کا وسیع احاطہ، جسے حرم الشریف بھی کہا جاتا ہے، کئی تاریخی عمارتوں پر مشتمل ہے، جن میں قبۃ الصخرہ (ڈوم آف دی راک) سب سے نمایاں ہے۔ یہ سنہری گنبد والی عمارت اسلامی طرزِ تعمیر کی ایک شاندار مثال ہے اور یروشلم کی پہچان بن چکی ہے۔
تین مقدس مساجد میں شمار
اسلامی روایت میں تین مساجد کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے: مسجد الحرام (مکہ)، مسجد نبوی (مدینہ) اور مسجد اقصیٰ (یروشلم)۔ ان تینوں مقامات کی زیارت کے لیے خصوصی سفر کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ مسجد نبوی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے مسجد نبوی کا مضمون ملاحظہ کریں۔
یروشلم کی مذہبی حیثیت
یروشلم صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ یہودیت اور عیسائیت کے لیے بھی مقدس شہر سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ شہر تین آسمانی مذاہب کے سنگم کے طور پر تاریخی و مذہبی اعتبار سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت
صدیوں کے دوران مسجد اقصیٰ کا احاطہ مختلف ادوار میں تعمیر و توسیع سے گزرا۔ امویوں، ایوبیوں اور عثمانیوں سمیت کئی اسلامی حکومتوں نے اس مقدس مقام کی تعمیر و مرمت اور حفاظت میں کردار ادا کیا، جو مسلمانوں کے دلوں میں اس کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔
ریحان ایسانس اور مقدس مقامات کی یاد
ریحان ایسانس 1991 سے حج و عمرہ اور مقدس سفر کی تیاری میں ساتھ دینے والی الکحل سے پاک تیل بنیاد خوشبوئیں پیش کر رہا ہے۔ ہمارے حج و عمرہ کے سامان کی مکمل فہرست کے لیے حج و عمرہ کے سامان کی فہرست کا مضمون دیکھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
مسجد اقصیٰ کو پہلا قبلہ کیوں کہا جاتا ہے؟
اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے، اسی لیے اسے پہلا قبلہ کہا جاتا ہے، بعد میں قبلہ تبدیل ہو کر خانہ کعبہ ہو گیا۔
اسراء و معراج کا مسجد اقصیٰ سے کیا تعلق ہے؟
روایات کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کا سفر مکہ سے مسجد اقصیٰ تک ہوا، جہاں سے آسمانوں کی طرف معراج کا سفر شروع ہوا۔
مسجد اقصیٰ تین مقدس مساجد میں سے کیوں شمار ہوتی ہے؟
مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے ساتھ مسجد اقصیٰ کو اسلام کی تین مقدس ترین مساجد میں شمار کیا جاتا ہے، جن کی زیارت کے لیے خصوصی سفر کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
ہم 35 سال سے زائد کے تجربے کے ساتھ خوشبو، تسبیح اور حج و عمرہ سے متعلق معتبر معلومات فراہم کرتے ہیں۔ سوالات کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔
پریمیم رول آن پرفیوم، تسبیح، احرام اور حج و عمرہ کا سامان — 1991 سے۔
اسٹور دیکھیں →پہلے آرڈر پر %10 رعایت — کوپن کوڈ: ILK10
